کیسی تھی غمناک کہانی درد میں ڈوبا قصہ تھا

Kaisi thi ghumnak kahani dard main duba qisa tha
غزلیات، ایسٹر| سیالکوٹ کنونشن| 31|
+
کیسی تھی غمناک کہانی درد میں ڈوبا قصہ تھا
جس کا سن کر باغ کا ہر گل خون کے آنسو رویا تھا
۱
موت کی وادی غم کا سورج اس کا یہی بس رستہ تھا
گلی گلی اور کوچہ کوچہ اس نے ہم کو ڈھونڈا تھا
۲
اپنی سولی آپ اٹھا کر بازاروں سے گزرا تھا
کرب کی راہ میں کانٹوں پر وہ گرتا اٹھتا چلتا تھا
۳
سب کا ساتھی سب کا پیارا ، آج صلیب پر تنہا تھا
اس کی سندر لاش کو لے کر اندھیاروں میں رکھا تھا
۴
تیسرے روز مسیحا میرا ، بندھن توڑ کے جاگا تھا
دور پہاڑوں کی چوٹی پر دیپ لہو کا جلتا تھا
Make Donation
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector