جو چہرہ چمکیلا تھا دکھ سے کتنا پیلا تھا
کپڑے ریشہ ریشہ تھے سر پہ تاج نوکیلا تھا
۱
خون کی بوندیں چہرے پر
جسم لہو سے گیلا تھا
۲
گرتے پڑتے چلتا تھا
رستہ بھی پتھریلا تھا
۳
اب اس کا انکاری ہے
ساتھی ایک جوشیلا تھا
۴
رنج و غم کے راہی کی
منزل موت کا ٹیلا تھا
۵
تیسرے دن میں لوٹوں گا
سچا قول سریلا تھا
۶
اپنے وقت پہ جاگا تھا
موت کا بندھن ڈھیلا تھا
۷
میں واپس گھر لوٹوں گا
اس کی موت وسیلہ تھا
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.