جو چمن آباد تھا وہ آج ویراں ہو گیا ظالموں کے اب حوالے ابنِ انساں ہو گیا ۱
ہنس رہے تھے اس پہ ظالم وہ مگر خاموش تھا
اِس قدر مجبور کیسے پسرِ یزداں ہو گیا
۲
دوش پر بارِ گناہ انکار کا لے کر چلا
دیکھ کر دل کیوں نہیں میرا پریشاں ہو گیا
۳
کیوں ہمیں کچھ نہ کہے معصوم کا بہتا لہو
اس لہو کا قطرہ قطرہ داغ عصیاں ہو گیا
۴
آج دل پوچھے ذرا اُس غمزدہ ماں سے کوئی
جس کا پیارا لاخطا سولی پہ قرباں ہو گیا
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.