Loading

جان دے کر قرض بھاری چکایا تیرا

Jan dekr qarz bhari chukaya hai tera
غزلیات، ایسٹر| 60|
+
جان دے کر قرض بھاری ہے چکایا تیرا
مَیں نے ہر ایک جرم ہر اک روگ مٹایا تیرا
۱
کس قدر ارزاں لگائی تُو نے قیمت میری
دیکھ مجھ کو مَیں نے کیا دام لگایا تیرا
۲
زخمی ہاتھوں سے درِ دِل کھٹکھٹاؤں عارفؔ
جانے کیوں دِل نہ مَیں پھر بھی جیت پایا تیرا
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector