ہاتھ میں موت کا پیالہ تھا

Hath mein maut ka pyala tha
ایسٹر، غزلیات| دائم گل| 12|
+
ہاتھ میں موت کا پیالہ تھا
زندگی نے اُسے سنبھالا تھا
۱
راستہ بن گئی تھی سولی بھی
کس قدر یہ سفر نرالا تھا
۲
چھو رہے تھے لبوں کو شعلے بھی
روح اقدس اُترنے والا تھا
۳
قبر خالی پڑی تھی یسوع کی
اور سورج نکلنے والا تھا
۴
خون اور پانی دونوں بہتے تھے
جب لگا پسلی میں بھالا تھا
Make Donation
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector