چھلنی چھلنی ہو گیا کوڑوں کی مار سے ظلم و ستم وہ سہہ گیا کتنے ہی پیار سے (۱)
اس نے جہاں کے پیار میں جیون لٹا دیا
دل کے گناہ کو دھو گیا وہ بہتی دھار سے
(۲)
گرتے رہے تھے خون کے قطرے زمین پر
دیکھو فلک بھی رو پڑا دکھوں کے بھار سے
(۳)
چُوما ہے میں نے ناصری تیری صلیب کو
فردوس بھی اب ہے کھل تیرے اختیار سے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.