Loading

چھلنی چھلنی ہو گیا کوڑوں کی مار سے

Chlni chlni hogya koron ki mar sy
غزلیات، بپتسمہ، ایسٹر| اسمبلیز آف گاڈ، تمجیدِ مسیحا| 24|
+
چھلنی چھلنی ہو گیا کوڑوں کی مار سے
ظلم و ستم وہ سہہ گیا کتنے ہی پیار سے
(۱)
اس نے جہاں کے پیار میں جیون لٹا دیا
دل کے گناہ کو دھو گیا وہ بہتی دھار سے
(۲)
گرتے رہے تھے خون کے قطرے زمین پر
دیکھو فلک بھی رو پڑا دکھوں کے بھار سے
(۳)
چُوما ہے میں نے ناصری تیری صلیب کو
فردوس بھی اب ہے کھل تیرے اختیار سے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector