کلوری کی پہاڑی پہ میرے لئے تو نے اپنے لہو سے جلائے دیئے ۱
ظالموں کے ستم تُو اُٹھاتا رہا
دشمنوں کو گلے سے لگاتا رہا
کون تیرے سوا ہے زمانے میں جو
موت کا جام غیروں کی خاطر پئے
۲
چاہتیں اپنی مجھ پہ لٹاتا رہا
میرا بگڑا مقدر بناتا رہا
ایک میں ہوں کہ جیون میں اے ناصری
ہر قدم پہ تجھے غم ہی غم ہیں دیئے
۳
موت کے بندھنوں سے چھڑایا ہمیں
پیار اپنا حقیقی دکھایا ہمیں
دار پہ جان دی تُو نے اے ناصری
تاکہ ہر ایک انساں ھمیشہ جیئے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.