بوجھ سولی کا بہت بھاری ہے

Bojh sooli ka buhat bhaari hai
ایسٹر، غزلیات| محمد علی| عمانوئیل نذیر مانی| 7|
+
بوجھ سولی کا بہت بھاری ہے
ابنِ مریم کا سفر جاری ہے
۱
گِر پڑا ہے وہ دار کے نیچے
اُس نے ہمت نہ پھر بھی ہاری ہے
۲
اُس نے پینا ہے موت کا پیالہ
اُس کو ربّ کی رضا ہی پیاری ہے
۳
کٹ ہی جائے گا کلوری کا سفر
آنکھ میں کلوری اُتاری ہے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector