اِس سال مَیں نے دار پر کچھ بھی نہیں لکھا
سہیل ساجد
غزلیات
مطالعات: 210
پسند: 0
اِس سال مَیں نے دار پر کچھ بھی نہیں لکھا
حیرت ھے اپنے یار پر کچھ بھی نہیں لکھا
لکھتا رہا ھوں سال بھر افسانے پیار کے
پیاروں کے روز پیار پر کچھ بھی نہیں لکھا
ہاں ہاں پہ ہاں لکھ کے خوشی بانٹتا رہا
اور اپنے انکار پر کچھ بھی نہیں لکھا
مجھ کو بچانے کے لیۓ مصلوب ہو گیا
اور مَیں نے اِس ایثار پر کچھ بھی نہیں لکھا
چلا چلا کے پیاسا ھوں وہ بولتا رہا
اور مَیں نے اِس پکار پر کچھ بھی نہیں لکھا
پھولوں کی خوشنمائی پر خوشیاں منا کے بھی
مَیں نے شبِ بہار پر کچھ بھی نہیں لکھا
زخموں سے دھار بن کے لہو ہر طرف گیا
پر میں نے اس پھوار پر کچھ بھی نہیں لکھا
قیمت مِیں اپنا خوں دیا ساجد کے پیار مِیں
اور اٌس نے اٌس کے پیار پر کچھ بھی نہیں لکھا
واپس جائیں