یہ سوچنا بھی تقریباً ناممکن ہے کہ دو ایسے ایماندار اِس ایک ہی بدن کا حصہ ہوں، اُن میں ایک ہی روحالقدس بسا ہو، اُن کی مستقبل کی امید بھی ایک ہو، اور اُن کا خداوند یسوعؔ مسیح بھی ایک ہو، مگر پھر بھی وہ یگانگت میں مل کر نہ چل سکیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی نے ہندوستان کے روحانی رہنما گاندھی سے پوچھا کہ ’’ ہندوستان میں مسیحیت کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا، ’’مسیحی خود ‘‘۔