Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات

وہ ہی چاہت تو وہی پیار کہاں سے لاٶں

عارف پرویز نقیب غزلیات مطالعات: 369 پسند: 0

وہ ہی چاہت تو وہی پیار کہاں سے لاؤں
میں صلیبوں کے علمدار کہاں سے لاؤں
اب تو ہر سوچ پہ ہے ذرد رُتوں کا پہرہ
شہرِ انکار میں اقرار کہاں سے لاؤں
کون اس درد کے یریحو سے نکالے مجھکو
اب میں وہ نعرے وہ للکار کہاں سے لاؤں
بیٹھ کے گرجوں میں روتے ہیں سناٹے تنہا
سویا ہے شہر تو بیدار کہاں سے لاؤں
ہے بھلا کون صلیبوں پہ لٹکنے والا
اب میں وہ جذبہِ اظہار کہاں سے لاؤں
سچ کو دفنا کے نقیب آج چلے تو آٸے
جھُوٹ کے قتل کو تلوار کہاں سے لاؤں
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید