Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات

وہ بظاہر دوست ہے اور عدو بھی میرا ہے

عارف پرویز نقیب غزلیات مطالعات: 144 پسند: 0

وہ بظاہر دوست ہے اور عدو بھی میرا ہے
زندگی کے ہاتھوں میں موت کا بسیرا ہے
۔۔۔
قہقہوں کی وادی میں درد کی پناہیں ہیں
روشنی کے ہاتھوں میں ماتمی سویرا ہے
۔۔۔
تم تو یوں بچھڑ گئے، تم تو یوں جدا ہوئے
جیسے عشق و چاہ میں سب قصور میرا ہے
۔۔۔
گھر کی ہر دیوار اب اک دیوارِ گریہ ہے
اور میری پلکوں پہ آنسوؤں کا ڈیرا ہے
۔۔۔
خواب کے پرندے تو حبسِ جاں سے مر گئے
شجرِ بے تمنا پہ خوف کا بسیرا ہے
۔۔۔
رات کی سیاہی میں دھوپ کی آمیزش ہے
ملگجے اجالے میں سازشی سویرا ہے
۔۔۔
کس کو ہم پکارتے نقیبؔ آنا تھا کیسے
دشمنوں نے ہم کو تو راستوں میں گھیرا ہے
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید