Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات

قرض ادا کرنا تھا کر کے لوٹ آیا

عارف پرویز نقیب غزلیات مطالعات: 135 پسند: 0

قرض ادا کرنا تھا کر کے لوٹ آیا
دستک اُس دہلیز پہ دھر کے لوٹ آیا
۔۔۔
نکلا کاروبار میں کرنے ہیروں کا
دامن میں سنگریزے بھر کے لوٹ آیا
۔۔۔
گھر میں چاہت، خوشبو، نغمے ہی نہ تھے
دیکھے جو آثار کھنڈر کے لوٹ آیا
۔۔۔
میں نے ہر آغوش میں خنجر دیکھے ہیں
ماں کے پاس ہی آخر ڈر کے لوٹ آیا
۔۔۔
دل تو تیرے پاس ہے لیکن یار نقیبؔ
جان حوالے کس کے کر کے لوٹ آیا
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید