Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات

کیسے کیسے تجربوں کی زد میں ہوں

عارف پرویز نقیب غزلیات مطالعات: 131 پسند: 0

کیسے کیسے تجربوں کی زد میں ہوں
آج کل میں وحشتوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
برسے پتھر پھر بھی ہوں میں بے خبر
دوستوں کا دشمنوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
بانٹتا پھرتا ہوں سب کو روشنی
اور خود تیرہ شبوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
جن کو آنا تھا بھلا بیٹھے مجھے
کس لئے میں رتجگوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
اب نقیبِؔ گل ہے یا فصلِ خزاں
میں بھی کیسے موسموں کی زد میں ہوں
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید