Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات

فرقتوں اور قربتوں کے درمیاں مارے گئے

عارف پرویز نقیب غزلیات مطالعات: 142 پسند: 0

فرقتوں اور قربتوں کے درمیاں مارے گئے
ہم بھی کیسے فاصلوں کے درمیاں مارے گئے
۔۔۔
اِس گلی سے اُس گلی تک کٹ گئی عمرِ رواں
عمر بھر ہم ہجرتوں کے درمیاں مارے گئے
۔۔۔
اب ملیں گے، کل ملیں گے، پھر ملیں گے، سوچنا
کس قدر خوش فہمیوں کے درمیاں مارے گئے
۔۔۔
فن ہی نے کاٹی ہے میری شہ رگِ رزق و غذا
ہم کہ گیتوں، زمزموں کے درمیاں مارے گئے
۔۔۔
ہم ملیں تو جانے کیا طوفان برپا ہو نقیبؔ
بس یونہی ہم وسوسوں کے درمیاں مارے گئے
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید