اُٹھ مسافر کر تیاری اب تو کچھ دِن بھی نہیں ہے
دِل کہیں ، دیدہ کہیں اور اشک آنکھوں میں نہیں ہے
۱
لگ رہا ہے چل چلا یہاں رات و دِن یکساں برابر
موت کا ڈنکا بجے ہے کیا تجھے کچھ غم نہیں ہے
۲
موت کیا جانے لڑکپن کیا بڑھاپا کیا جوانی
کیا امیری کیا فقیری موت کو پرواہ نہیں ہے
۳
کیا تیری آنکھوں میں اب تک نیند غفلت کی بھری ہے
بھائی اور مادر پدر یاں کوئی بھی اپنا نہیں ہے
۴
مال و دولت شان و شوکت اِن میں دھوکا ہی سراسر
ساری دُنیا کوئی کماوے تو بھی کچھ حاصل نہیں ہے
۵
ہے شجر پرخار دُنیا زندگانی ہے کہانی
غم الم ماتم سوا کوئی اور اِس میں پھل نہیں ہے
۶
ہے مار دھمار دُنیا زہرِ قاتل سے بھری ہے
اِس کا کاٹھا کوئی مسافر ایک دم جیتا نہیں ہے
۷
جیش و ہمشید و فریدوں بہمن و دارا سکندر
مل گئے سب خاک میں اُن کا پتہ ملتا نہیں ہے
۸
ہے خوشی یسوع مسیح میں راہ حق صابر وہی ہے
کیوں پھرے بھٹکا مسافر اور تو کوئی راہ نہیں ہے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.