پھر اک بار یہ دِن زندگی میں آیا ہے

Phir ik baar ye din zindagi mein aaya hai
صبح، نیا سال| تمجیدِ مسیحا| 34|
+
پھر اک بار یہ دِن زندگی میں آیا ہے
۱
تھے کتنے دُور ہم ارض و سما کے مالک سے
ہوئے تھے خلق پر واقف نہیں تھے خالق سے
بڑے خلوص سے آُس نے ہمیں بلایا ہے
۲
گزر رہے تھے دِن اشکوں میں اور آہوں میں
گلوں سے دُور تھے کانٹے پڑے تھے راہوں میں
جلا کے آج پھر کندن ہمیں بنایا ہے
۳
یہ کیسا کرم ہے ہر چہرہ مسکرایا ہے
کہ جیسے چار سُو اِک انقلاب آیا ہے
بڑے وقار سے جینا ہمیں سکھایا ہے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector