نُور کی بارش برس رہی ہے ، ویرانے شاداب ہوئے جنگل ٹیلے پیاسے صحرا، آج سبھی سیراب ہو ئے 1
پھر سے گلشن مہک اُٹھے ہیں پھر سے بہاریں لوٹ آئیں
مایوسی سے سُوکھے پتے کھِل کر سُرخ گلاب ہوئے
2
ابدی زندگی دینے آیا چرنی میں وہ نورِ خدا
آج گنہگاروں کی خاطر خوشیوں کے اسباب ہوئے
3
آج خوشی کثرت سے پائی غم کے مارے لوگوں نے
اِک چہرے کی ایک چمک سے سب چہرے ماہتاب ہوئے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.