(دوہا)
شہنائیوں کی صدائیں سُنو
لشکر فرشتوں کے گائیں سُنو
نورِ مجسم ہے اُترا ہُوا
عالم ہیں خوشیاں منائیں سُنو
۔۔۔
(استھائی)
نُورِ خدا ہے زمین پہ آ گیا ہو گئی ہے روشنی مل گیا راستہ تختِ خدا اب زمیں پہ ہے لگا عاصیوں کو مل گیا زندگی کا پتہ ہے ابن خدا مولود ہوا صورت ہے بنا اندیکھا خدا حکمت ، قدرت ، حشمت سے بھرا ابدی جیون کا دریا بہا پورا ہُوا انبیاء کا لکھا مریم کے گود میں یسوع بادشاہ 1
نکلا تارا رہبر ہے چرنی کی طرف
بڑھتا ہر اِک راہی ہے اُس کو دیکھ کر
آئے ہیں مجوسی بن کے گواہ
اُترا ہے مجسم ہو کے خدا
اب ساتھ خُدا ہے اپنے سدا
شاہی فرماں ہے جاری ہوا
خوف نہیں اب موت کا بھی رہا
لے کے آیا زندگی امن کا شہزادہ
2
لے کر آیا چاہت کی کیسی وہ سوغات
کرنے آیا انساں سے خدا ہے ملاقات
آمد اس کی ہے سب سے الگ
راستہ اس کا ہے سب سے جدا
الفت اس کی ہے سب سے الگ
رتبہ اس کا ہے سب سے جدا
قدرت سے وہ پاک روح کی ہے بنا
آدمی کے روپ میں ہے نُورِ خدا
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.