مجسم ہو کے دیکھو پیار آیا خدائے پاک کا اوتار آیا ۱
ہر اِک لب پر خوشی کے ہیں ترانے
گناہ سے موت سے ہم کو چھڑانے
ہمارا حامی و غمخوار آیا
میرا شافی میرا دلدار آیا
۲
بنایِ عالم سے جس کی جستجو تھی
تمنا جس کی سب کو کوبہ کو تھی
سبھی نبیوں کو جس کی آرزو تھی
محبت کا وہ بن اظہار آیا
۳
نمایاں ہر جگہ جو ہر کہیں ہے
وہ جس کا کوئی ہمسر ہی نہیں ہے
یہاں پر ہی نہیں وہ ہر کہیں ہے
عبادت کا جو ہے حقدار آیا
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.