میرے دِل میں یاد اُسی کی ہے میرے لب پہ اُس کا ہی نام ہے جو رفیق و مُونس عاصیاں جو شفیعِ روز قیام ہے ۱
مَیں کلمہ غیر کا کیوں پڑھوں
بھلا ضائع وقت کو کیوں کروں؟
میرے لب پہ کلمہ اُسی کا ہے
جو ازل سے حق کا کلام ہے
۲
کِیا سَیر دیر و حرم کبھی کبھی
کُچھ ہُوا ہو ہوس رہی
مگر اب تو راہ وہ مِل گئی
کہ جو مقصد اپنا تمام ہے
۳
سو یہ راہ اگرچہ ہے پُر خطر
ہے ہزاروں طرح کا اِس میں ڈر
تُو بڑھ آگے فِکر ذرا نہ کر
کہ مسیح تیرا امام ہے
۴
جو تُو خالی ہاتھ ہے اے گدا
درِ وا پہ تُو بھی اُسی کے جا
تُجھے خالی ہاتھ نہ پھیرے گا
کہ وہ بخشش اُس کی تو عام ہے
۵
میرے داغِ قرمزی جتنے تھے
تیرے خُونِ پاک سے دُھل گئے
کبھی ہو گا تُجھ سے نہ بے وفا
کہ یہ خُون خریدا غُلام ہے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.