میں نے چاند کی کرنوں سے ستاروں سے بھی پوچھا

Mai ny chand ki kirnon sy sitaron sy bhi pucha
غزلیات، آمدِ ثانی | 21|
+
یں نے چاند کی کرنوں سے
ستاروں سے بھی پوچھا
میں نے بہتے دریاؤں کے
کناروں سے بھی پوچھا
میرا یسوع مجھ کولینے
جانے کب آئے گا
1
میں جو دلہن ہوں اس کی
سنگھار ہے کیا
بے تاب ہو کے اس کا
انتظار ہے کیا
اس مہکتی خوشبو اور
بہاروں سے بھی پوچھا
2
یہ کلامِ مقدس میرے
ایمان کا بانی ہے
میری قوت کا سرچشمہ
میری زندگانی ہے
میں نے بائبل مقدس کے
طوماروں سے بھی پوچھا
3
ہر پل میں جاگتی ہوں
انتظار میں نہ سوئی
تیرا دیکھ دیکھ رستہ
ہر وقت آ نکھ روئی
میں نے ہر گلی کوچے
بازاروں سے بھی پوچھا
Make Donation
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector