Loading

کئی سال گزرے کٹھن راستے تھے

Kai saal guzre kathin raaste the
نیا سال، ایذا رسانی| سہیل روبن| روح کی خوشی| 41|
+
کئی سال گزرے کٹھن راستے تھے
کئی خواب تھے جو نہ پورے ہوئے
...
(کورس)
خُدا پہ رہا پر بھروسہ میرا
میرا راہنمائی وہ کرتا رہا
کبھی نہ مجھے مایوس کیا
۱
کئی دوست تھے پھر جو دُشمن بنے
سچائی کی راہ میں رکاوٹ ہوئے
۲
کئی بت بھی دیکھے جو بے جان تھے
اُنہیں لوگ اپنا خُدا مانتے تھے
۳
کئی بار جاں کو بھی خطرہ ہُوا
گواہی بھی دینا ناممکن ہُوا
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector