Loading

ہے کون جو مرا ہے صلیبوں کے شہر میں

Hai kaun jo mara hai saleebon ke shehar mein
موت، غزلیات| صداقت سروش| پادری حزقی ایل سروش| اسمبلیز آف گاڈ| 20|
+
ہے کون جو مرا ہے صلیبوں کے شہر میں
دیکھو یہ کیا ہوا ہے صلیبوں کے شہر میں
1
وہ بوجھ ہے صلیب کا چلنا محال ہے
ٹھہری ہوئی ہوا ہے صلیبوں کے شہر میں
2
کس کا لہو چراغ بنا ہے میرے لیے
رستہ دکھا رہا ہے صلیبوں کے شہر میں
3
جاں تھی جنہیں عزیز وہ سب جا چکے سروش ؔ
ایک شخص رہ گیا ہے صلیبوں کے شہر میں
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector