دُور فضاؤں میں اک تارا چمکا ہے جس کے ازلی نُور سے سارا ، عالم مہکا ہے 1
اُس کو مسلسل دیکھنے والے
منزل تک پہنچ آئیں ۔ یسوع تک پہنچ آئیں
آج بھی وہی صبح کا تارا نکلا ہے
2
اِس کا اشارہ بیت الحم کی
ایک سرائے کی جانب۔ اصطبل کی جانب
جس میں خداوند یسوع مسیحا ٹھہرا ہے
3
گہرے گہرے سایوں میں
ہم کو تیری ضرورت ۔ سب کو تیری ضرورت
تُو نے ہمیشہ یسوع تک پہنچایا ہے
4
کاش میں تجھ سا ایک ستارہ
بن کے راہ دکھاؤں ۔ یسوع تک پہنچاؤں
اب تو رضاؔ کے دل کی یہی تمنا ہے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.