دنیا بھر کے سارے انسان آپس میں ہمسائے دورِ حاضر کی ہر دھڑکن یہ پیغام سنائے یہ پیغام سنائے ، یہ پیغام سنائے ۱
ذاتوں اور مذہب کے سارے بندھن توڑ کے دیکھو
نفرت اور جھگڑوں کے سارے رستے چھوڑ کے دیکھو
رستے چھوڑ کے دیکھو
دُوری اور بیگانے پن کے مٹ جائیں گے سائے
۲
وادی وادی امن و چاہت کا پیغام سنائیں
بستی بستی کہتی پھرتی ہیں یہ آج ہوائیں
ہیں یہ آج ہوائیں
قریہ قریہ گونجے نعرے ہر دم یہ لہرائے
۳
آؤ روشن کل کی جانب مل کے بڑھتے جائیں
کالی شب کو صبحِ نو کا ہم پیغام سنائیں
ساری دُنیا پل پل چمکے ہر اک انساں گائے
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Report an Issue
Thank You!
Your report has been submitted successfully. We will fix it as soon as possible.