دکھ سہنے سے پہلے میں اس شام کو مناؤں

Dukh sahne se pehle main is shaam ko manaoon
ایسٹر، عشائے ربانی| غلام عباس| روبن راز| پرویز ڈیوڈ غوری| اسمبلیز آف گاڈ، سیالکوٹ کنونشن، تمجیدِ مسیحا| 1,541|
+
دکھ سہنے سے پہلے میں اس شام کو مناؤں
تھی آرزو یہ میری کہ فسح میں آج کھاؤں
۱
پھر نہ کبھی پیوں گا میں انگور کا یہ شیرہ
اپنے دلوں میں رکھنا میری یاد کا زخیرہ
کل جو بھی ہے ہونا وہ آج میں بتاؤں
۲
میرے خون اور بدن کو آپس میں مل کے کھانا
میرے خون کا یہ وعدہ تم دل سے نہ بُھلانا
ایسا ہی کرتے رہناجب تک نہ پھر میں آؤں
۳
تم میں سے ایک مجھ کو دھوکا ضرور دے گا
غیروں سے راز میرا وہ مول جا کے لیگا
یہ ضرور ہی تھا ہونا کہ صلیب میں اُٹھاؤں
Make Donation
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector