چوپان ہے ناصری ہوگی نہ ہرگز کمی

Chopan hai Nasari hogi na hargiz kami
موت، شفا، عشائے ربانی، شکرگزاری| فہیم مظہر| پادری حزقی ایل سروش| 9|
+
چوپان ہے ناصری ہوگی نہ ہرگز کمی
راحت کے چشموں کے پاس مجھ کو ملی زندگی
۱
کرتا ہے مجھ کو بحال خطرے سے دیگا نکال
بخشے گا ابدی جلال ہر سمت ہوگی خوشی
۲
محبت تیرا نام ہے الفت تیرا کام ہے
شفقت تیرا جام ہے ہردم کریں بندگی
۳
ڈرنا نہیں موت سے رکنا نہیں خوف سے
بڑھتے رہو شوق سے پیچھے نہ ہٹنا کبھی
۴
روشن میرا دل ہوا رہبر میرا وہ ہوا
یسوعؔ مجھے مل گیا ہر گام پہ روشنی
Please note: The video/audio is provided just for reference purpose only to help people learn the tune. In case of any typo, wrong worshiper/poet/composer/category or any other issue in lyrics,
Projector