خدا عظیم ہے اور ہم سب انسان بشمول پوری کائنات اس کی کاریگری ہیں اور کاریگری کا ایک خاص مقصد ہے کہ وہ اپنے بنانے والے کو جلال دے جس کا ایک طریقہ اس کی پرستش یا حمد و ثنا کرنا ہے ۔ خدا کو پسند نہیں کہ وہ جبراًکسی کو مائل کرے کہ وہ اس کی پرستش کرے اس وجہ سے خدا نے انسان کو آزاد مرضی دے رکھی ہے ۔ نہ صرف انسان بلکہ آسمان پر فرشتے جو خدا کی حمد و ثنا کرتے اور اس کو جلال دیتے ہیں آزاد مرضی پر خلق کیے گئے اور ہمیں بائبل مقدس میں بار بار پرانے عہد نامے میں اور نئے عہد نامے میں خدا کی حمد کرتے اور اس کو جلال دیتے نظر آتے ہیں۔
بلکہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری تخلیق اور تمام مخلوقات کی تخلیق ہونے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اس کی حمد کریں ( یسعیاہ ۴۳: ۲۱) ۔ یسعیاہ نبی کہتا ہے کہ خدا فرماتا ہے ’’میں نے ان لوگوں کو اپنے لیے بنایا کہ وہ میری حمد کریں ‘‘۔ نہ صرف انسان بلکہ فرشتوں کا بھی یہی مقصدہے اور وہ ہمیں اس میں سرگرم نظر آتے ہیں ۔ایوب کی کتاب میں خدا اس کا ذکر کرتا نظر آتا ہے ’’جب صبح کے ستارے گاتے تھے ‘‘ (ایوب ۳۸: ۷)۔ حمد و ثنا کا براہ راست مقصد گانے سے ہی ہے اور اعمال سے بھی ہے ۔ بعض اوقات جب ہم اعمال سے خدا کی باتوں پر عمل کرتے ہیں تو اس کی پرستش کرتے ہیں اور یہی پرستش جو اعمال میں نظر آتی ہے یہ ایمان کی تصویر کشی ہے جو ہمارے بندھن توڑتی ہے کیونکہ جب تک ہم خدا پر ایمان نہیں رکھتے اس کی بات پر عمل کرنا نہ صرف ناممکن ہے بلکہ بے فائدہ بھی ۔ پرستش کا براہ راست تعلق ایمان کے ساتھ ہے اور یہی پرستش کرتے ہوئے ابرہام نظر آتا ہے جو کہ اس کا ایمانی اظہار تھا۔ اس کی زندگی میں خوشحالی اور شادمانی آتی ہے ۔ میں بات کر رہا ہوں ابرہام کے اس عمل کی جس میں اس کے اس عمل کو بھی پرستش کا نام دیا گیا ہے جب وہ پہاڑ پر اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے جا رہا تھا۔
عبرانی زبان میں پرستش کے لیے ’’شاخاہ (שָׁחָה) (shâchâh) ‘‘ لفظ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ (KJV) میں ’’worship‘‘ کیا گیا ہے اور یہ worshipکا لفظ ہمیں پیدائش ۲۲: ۵ میں ملتا ہے ۔ اردو میں اس کا ترجمہ سجدہ کیا گیا ہے جب ابرہام اپنے بیٹے اضحاق کو قربان کرنے کے لیے جا رہا تھا۔
پرستش کسی کو سرفرازی اور کسی کو راحت دیتی ہے
پرانے عہد نامے میں ہمیں پرستش نہ صرف اعمال بلکہ شاعری کی صورت میں بھی نظر آتی ہے اور جب خدا کی پرستش گا کر کرنے کی بات آئے تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں جس شخصیت کا نام ابھرتا ہے وہ ہے بزرگ داؤد جس کے بارے میں سموئیل کی کتاب کہتی ہے ’’ داؤد بن یسّی ۔۔۔اسرائیل کا شیریں نغمہ ساز ‘‘ (۲۔ سموئیل ۲۳: ۱)۔
اور خدا اس کے بارے میں کہتا ہے اور سموئیل نبی ان الفاظ میں ذکر کرتا ہے ۔۔۔’’کیونکہ خداوند نے ایک شخص کو جو اس کے دل کے مطابق ہے تلاش کر لیا ہے‘‘ (۱۔ سموئیل ۱۳: ۱۴) ۔ بزرگ داؤد جب لڑکپن میں ہی تھا تو وہ بھیڑ بکریاں چراتا تھا مگر موسیقی میں اس کی گہری لگن نظر آتی ہے اور وہ گانے سے اور بجانے سے خدا کی پرستش کرتا اور یہی پرستش اسے سرفرازی کی طرف لے گئی جب ساؤل کو بری روح ستاتی تھی ۔ مگر داؤد کو تلاش کیا گیا اور وہ محل تک جا پہنچا اور یہ تو صرف آغاز تھا (۱۔ سموئیل ۱۶: ۲۳) ۔ سو جب وہ بُری روح خدا کی طرف سے ساؤل پر چڑھتی تھی تو داؤد بربط لے کر ہاتھ سے بجاتا تھا اور ساؤل کو راحت ہوتی اور وہ بحال ہو جاتا تھا اور وہ بُری روح اس پر سے اتر جاتی تھی ۔ خدا عظیم ہے ۔ وہ اپنے لوگوں کو سرفراز کرتا ہے ۔ خدا نے داؤد کو پرستش کے وسیلے سرفراز کر دیا یہاں تک کہ وہ ملک کا بادشاہ بن گیا اور آج تک داؤد کو اسرائیل کا سب سے بڑا بادشاہ مانا جاتا ہے ۔ داؤد کا خدا کے ساتھ رشتہ اسے نہ صرف سرفراز کر گیا بلکہ دوسروں نے راحت بھی پائی خاص طور پر ساؤل بادشاہ نے جب جب اسے بُری روح ستاتی تھی اور آج بھی جب چرچز میں خدا کی پرستش کی جاتی ہے تو لوگ آزاد ہوتے اور راحت پاتے ہیں۔
پرستش
پرستش غلبہ دیتی ہے اور روحانی بندھن توڑتی ہے ۔ جب ہم بائبل مقدس میں نئے عہد نامہ میں پڑھتے ہیں تو خدا کا بندہ پولس رسول افسیوں کے خط میں کلیسیا کو تلقین کرتا ہے کہ ’’اور آپس میں مزامیر اور گیت اور روحانی غزلیں گایا کرو اور دل سے خداوند کے لیے گاتے بجاتے رہا کرو ‘‘ (افسیوں ۵: ۱۹)۔ لیکن سوال اٹھتا ہے کہ رسول ایسی بات کیوں کہہ رہا ہے ؟ تو ہمیں یاد پڑتا ہے کہ جب پولس رسول افسس میں تھا تو کیا ہوا ؟ اعمال ۱۹ باب میں ملتا ہے کہ پولس رسول اپنے تیسرے مشنری دورے میں افسس میں رہا اور افسس میں ارتمس دیوی کا مندر تھا اور پولس کی منادی کے سبب سے لوگ مسیح پر ایمان لائے اور بتوں کو ترک کیا ۔ افسس شہر بت پرستی کے لیے بہت مشہور تھا اور اس کے پیچھے شیطان تھا کیونکہ جب مسیح مصلوب کی منادی کی گئی تو وہاں بلوا ہوا اور لوگ تماشہ گاہ میں اکٹھے ہو کر چلاتے رہے کہ ’’افسیوں کی ارتمس بڑی ہے ‘‘ (اعمال ۱۹: ۳۴) ۔ یقیناً اس سے اس سارے علاقے کی فضاؤں میں اچانک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہوگی کیونکہ پولس رسول اس وقت وہاں تھا تو اس نے خود تجربہ کیا ہوگا اس روحانی جنگ کا اور شیطان کے اس قدر مضبوط غلبے کا اس علاقے اور لوگوں پر ۔ تو پولس رسول اس خط میں بڑی وضاحت سے روحانی جنگ کا ذکر کرتا ہے تاکہ لوگ اس کے لیے تیار ہوں کیونکہ وہ خود سے اس پر غلبہ نہیں پا سکتے صرف مسیح یسوع کی صلیب کے وسیلہ سے ہی اور جب ہم اس میں مشغول رہ کر اور اس کی یاد میں اور اس کی حمد میں اس کی پرستش کرتے رہیں گے اس سے ہمارا تعلق بحال رہے گا اور ہم دشمن پر غالب رہیں گے۔
پرستش آزادی اور نجات کا راستہ تیار کرتی ہے
بائبل مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ فلپی شہر میں پولوس رسول اور اس کا ہم خدمت سیلاس مسیح کی منادی کر رہے تھے تو ان کو قید میں ڈال دیا گیا مگر خدا کے لوگوں کی باتوں میں اور اعمال میں تضاد نہیں پایا جاتا ۔ اگر پولس ہمیں یہ تلقین کر رہا ہے کہ ہم خدا کی حمد کے گیت گائیں تو اس نے اس کا عملی مظاہرہ بھی اپنے خداوند یسوع کی خاطر کر کے دکھایا جس نے اپنی محبت کا اظہار نہ صرف الفاظ سے بلکہ عمل سے بھی صلیب پر جان دینے کے وسیلے کیا ۔
جب وہ قید میں تھے تو حالت تو ایسی تھی کہ کوئی شخص شکایات کا ایک پہاڑ خدا کے سامنے رکھ دیتا کہ غیر قوموں نے خدا کے لوگوں کو قید میں رکھا ہے اور ایسی حالت میں تو سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کوئی شکر گزاری کرے مگر یہ وہ رسول ہے جو قید کی حالت میں بھی لوگوں کو نصیحت کرتا ہے کہ ’’خوش رہو پھر کہتا ہوں خوش رہو ‘‘۔ پولس اور سیلاس اس قید خانہ میں ’’دعا کر رہے تھے اور خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے ‘‘ (اعمال ۱۶: ۲۵) اور وہ بھی آدھی رات کے وقت ۔
انہوں نے شکایت کی جگہ خدا کی پرستش کو چنا اور خدا نے ایک بڑا بھونچال بھیجا جس سے قید خانے کی نیو ہل گئی ۔ یہاں تک ہی نہیں بلکہ بیڑیاں کھل گئیں۔ جب خدا کے لوگ اس کے حضور اس کی پرستش کرتے اور حمد کرتے ہیں تو ان کی روحانی اور جسمانی بیڑیاں کھل جاتی ہیں اور اس بھونچال سے وہ آزاد ہو گئے ۔ مگر بات یہاں ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ تو نجات یا رہائی کی راہ تیار ہو رہی ہے ۔ پولس اور سیلاس کی تو جسمانی بیڑیاں کھل گئیں مگر کسی کی روحانیت روحانی بیڑیاں کھولنا ابھی باقی تھا اور وہ تھا اس قید خانے کا داروغہ ۔ جس نے یہ سب دیکھا تو اس نے سوچا کہ قیدی بھاگ گئے ہیں اور خود کو مارنا چاہا مگر یہاں اس کی حضوری تھی جو خدا دنیا میں اس لیے آیا کہ ہم زندگی پائیں اور کثرت کی پائیں اس کی حمد ہو رہی تھی جس نے خود کو ہمارے لیے قربان کر دیا بھلا یہ شخص کیسے مر سکتا تھا ۔
پولس نے بڑی آواز دی کہ اپنے تئیں نقصان نہ پہنچا کیونکہ اس کے حصے کا نقصان مسیح صلیب پر برداشت کر چکا تھا ۔ مختصراً یہ کہ وہ داروغہ پولس اور سیلاس کے پاس گیا جو کہ خدا کی حمد کے گیت گا کر بھرے ہوئے تھے تو وہ قائل ہو گیا اور پوچھنے لگا ’’ اے صاحبو! میں کیا کروں کہ نجات پاؤں؟‘‘ ( اعمال ۱۶: ۳۰) اور اسی رات پولس اور سیلاس کا خدا حمد کے گیت گانا ان کے لیے وہاں سے آزادی اور اس داروغہ کے لیے نجات کا راستہ ثابت ہوا جو اپنے پورے گھرانے سمیت مسیح پر ایمان لے آیا ۔
سوچیں مت کیونکہ راستہ آپ کے سامنے ہے ۔ اگر زندگی میں کوئی بندھن ہے جسمانی ہے یا روحانی ہے تو آؤ اس کی حمد کے گیت گائیں اور وہ ہمیں آزاد کرنے اور نجات بخشنے پر قادر ہے کیونکہ وہ آیا ہی اس لیے کہ ہم بچ جائیں ، ہم زندگی پائیں ۔ آئیں سرفرازی اور راحت کے لیے اس کی پرستش کریں اس کے بڑے کاموں کے لیے اس کی پرستش کریں۔
’’اے اہل زمین سب خداوند کے حضور خوشی کا نعرہ مارو ۔ خوشی سے خداوند کی عبادت کرو ۔ گاتے ہوئے اس کے حضور حاضر ہو‘‘ (زبور ۱۰۰: ۱۔ ۲)۔
(پاسٹر شارون آئزکؔ، ساہیوال)