Fakhta.org App:
Download & Install
|
مسیحی ڈیجیٹل لائبریری
ہوم پیج
ہمارے بارے میں
ای کتابیں
ای پبلیکیشنز
بلاگ
ذیلی شعبہ جات
فاختہ ورشپ لائبریری
Coming Soon
قاموس الکتاب (ڈیجیٹل)
کلید الکتاب (ڈیجیٹل)
Coming Soon
سوالات جوابات
Coming Soon
مسیحی ناموں کی لغت
Coming Soon
نیو (Nave) کی موضوعاتی بائبل
Coming Soon
ٹوری (Torrey) کی موضوعاتی بائبل
Coming Soon
چارلس سپرجن کے مواعظ
Coming Soon
مسیحی تمثیلوں کا خزانہ
Coming Soon
مسیحی اقوالِ زریں
Coming Soon
25 سالہ مسیحی کیلنڈر
Coming Soon
دہ یکی کیلکولیٹر
Coming Soon
Donate
Partner
Order
ہوم پیج
Home Page
ہمارے بارے میں
About Us
ای کتابیں
E-Books
ای پبلیکیشنز
E-Publications
بلاگ
Blog
فاختہ ورشپ لائبریری
Fakhta Worship Library
ذیلی شعبہ جات
Sub-sections
Donate
Partner
Order
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
قاموس الکتاب (ڈیجیٹل)
Qamoos-ul-Kitab (Digital)
کلید الکتاب (ڈیجیٹل)
Kuleed-ul-Kitab (Digital)
مسیحی ناموں کی لغت
Christian Names Dictionary
مسیحی تمثیلوں کا خزانہ
Treasury of Christian Parables
25 سالہ مسیحی کیلنڈر
25-Year Christian Calendar
دہ یکی کیلکولیٹر
Tithe Calculator
جلد متوقع
Coming Soon
جلد متوقع مشمولات
نیو (Nave) کی موضوعاتی بائبل
Nave’s Topical Bible
ٹوری (Torrey) کی موضوعاتی بائبل
Torrey’s Topical Bible
چارلس سپرجن کے مواعظ
Charles Spurgeon’s Sermons
مسیحی اقوالِ زریں
Golden Sayings of Christianity
فردیات - ٹیگز
منتخب کردہ ٹیگ: فردیات
قلمکار منتخب کریں:
تمام
عامر زریں
عمانوئیل نذیر مانی
ونسینٹ پیس عصیم
وکٹر جان
کہا تھا سننے نہ دینا مجھے کلامِ نقیب
زِندگی چار دِن کا میلہ ہے
جان لو گے تو رو پڑو گے مِیاں
دِل چُھپاتا ہے حالتیں اپنی
دِل میں شعلہ کوئی دَہکتا ہے
مَیں تو پتھّر ہٹانے والا تھا
اُس کی یادوں کا رَقص ختم ہُوا
دُنیا کا کاروبار تو آتا نہیں مُجھے
مَیں نے لِکھّا تھا پیاس کو صحرا
بدلا بدلا سا ہے جہاں سارا
زِینہ زِینہ اُترتا جاتا ہُوں
پھُول باندھے رہیں گے ہاتھ اپنے
عجیب شور سا ہر سُو سُنائی دیتا ہے
آنکھ مَنظر بدلتی ہے لیکن
ایک دِیوانہ کھوج میں اپنی
ہر طرف سِسکیاں ہیں ماتم ہے
جو بھی خاموش ہے سمجھ مانیؔ
مُجھ پہ اَشعار یوں اُترتے ہیں
رَب نے اُس کو اُتارا یوں مُجھ پر
ایک اُس کی نَظر نہیں ٹھہری
آسماں کھول دے خُداوندا
بارِشوں نے اُجاڑ دی بستی
لہو برستا ہے جب بھی شِکستہ حالوں پر
نیا آدم
لفظ
قرض
نظمِ مختصر
ادراک
آشنائی
دستِ کوزہ گر
زنجیر
نشاط
ہاں! یوں ہے
جذبۂ بے اختیار
در و دیوار پہ نظریں جمائے بیٹھا ہوں
امیرِ شہر کے دامن پہ خُونِ ناحق ہے
سبزہ و گل کی مثل سبھی لوگ ہیں یہاں
تنہائی کی وحشت ہے اور ہجر کے سائے ہیں
لفظوں کو خنجر کر
معجزے پُر جلال ہوتے ہیں
میں اپنے غم عبارت کر رہا ہوں
مُدتوں سے سنبھال رکھی ہیں
دشمنوں کو اس لیے بھی بھول جاتا ہوں میں جان
برسوں کے بعد سن کے وہ اک آشنا آواز
درخشاں رہ گذر ہے رہنما اپنا مسیحا ہے
ختم ہونے کو ہے شبِ فرقت
کیسے لمحے تھے زندگانی کے
خمارِ عشق کی اسیری میں
کس کی آمد کی توقع ہے کہ دیوار و در
سمجھا تھا میں پھول جنہیں وہ
مانگ لائے ہیں کچھ ادھار کے سانس
دھول مٹی سے اٹ گئے چہرے
وہ میرے شعر کی ضرورت ہے
واپس جائیں
Please mark your visit by following our
Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔
خوش آمدید