کیا بتلائیں کیا کیا گزرے سال کیا
لکھاری:
عارف پرویز نقیب
مطالعات:
180
غزلیات
کیا بتلائیں کیا کیا گزرے سال کیا
بھاگتے دوڑتے خود کو ہے بد حال کیا
...
پچھلے برس کی خاک اُتاری چہرے سے
سال نو کی دھول نے استقبال کیا
...
گزرے برس صیاد نے پھندے ڈالے تھے
اب کے برس تیار نیا اک جال کیا
...
نعرے خالی پیٹ لگائے اوروں کے
جس نے جیسے چاہا استعمال کیا
...
پچھلے برس کیوں ہم نے بھوک ہی کاٹی ہے؟
کٹ جائے گا سر جو یہ ہی سوال کیا
...
مرتے ہیں یہ لوگ تو بھوک سے مر جائیں
وہ ہی کام حکومت نے اِس سال کیا
...
لوگوں نے تو بُوٹ نقیبؔ ہی چاٹے ہیں
اونچا یوں ہے وردی کا اقبال کیا