کئی سال گزرے کٹھن راستے تھے
لکھاری:
سہیل روبن
مطالعات:
99
کئی سال گزرے کٹھن راستے تھے
کئی خواب تھے جو نہ پورے ہوئے
...
(کورس)
خُدا پہ رہا پر بھروسہ میرا
میرا راہنمائی وہ کرتا رہا
کبھی نہ مجھے مایوس کیا
۱
کئی دوست تھے پھر جو دُشمن بنے
سچائی کی راہ میں رکاوٹ ہوئے
۲
کئی بت بھی دیکھے جو بے جان تھے
اُنہیں لوگ اپنا خُدا مانتے تھے
۳
کئی بار جاں کو بھی خطرہ ہُوا
گواہی بھی دینا ناممکن ہُوا