نیا ہے سال تو کچھ ہو نیا جائے
لکھاری:
کنیز منظور
مطالعات:
148
غزلیات
نیا ہے سال تو کچھ ہو نیا جائے
رنجش چھوٹے کچھ ایسا کیا جائے
...
چھوٹی سہی کوئی آسانی کریں ممکن
انساں کے مسکرانے کا ساماں کیا جائے
...
کوئی بات کوئ کام ہو بھلا دوجے کا
دکھ دور کسی کا ہر گز کیا جائے
...
نا دے سکو جو مسکان تو اتنا ہو
کسی کو درد نیا تو نا دیا جائے
...
سال یہ مبارک ہو سبھی کے لئے
خوشی سے ہر دامن بھر لیا جائے