خوشی کے ساز اُٹھاؤ کہ سالِ نو آیا
لکھاری:
گریفن جونز شرر
مطالعات:
236
غزلیات
مسیحی شاعری
خوشی کے ساز اُٹھاؤ کہ سالِ نو آیا
نئے ترانے سناؤ کہ سالِ نو آیا
۔۔۔
گزشتہ سال کے جھگڑوں کو دفن کر ڈالو
چراغِ اشک جلاؤ کہ سالِ نو آیا
۔۔۔
بہارِ حق و صداقت کے بجھ چکے ہیں کنول
صلیب اپنی اُٹھاؤ کہ سالِ نو آیا
۔۔۔
پسِ گنہ جو چھپے عدن کے درختوں میں
بشارت اُن کو سناؤ کہ سالِ نو آیا
۔۔۔
جمی ہیں مذبحِ ہیکل پہ نفرتوں کی تہیں
یہ بغض و کینہ مٹاؤ کہ سالِ نو آیا
۔۔۔
دہکتی دار پہ ٹپکے ہوئے لہو کی قسم
زبورِ درد سناؤ کہ سالِ نو آیا
۔۔۔
صلیبی زخم کا دھندلا سا عکس باقی ہے
چراغ یہ نہ بجھاؤ کہ سالِ نو آیا
۔۔۔
صلیب اُٹھاؤ کہ منزل ہے کلوری سب کی
یوں ہی نہ وقت گنواؤ کی سالِ نو آیا
۔۔۔
خلوص و پیار کی اب بھیک مانگتا ہے شررؔ
کلیسیا کے خداؤ کہ سالِ نو آیا