تمام رات جلی میں اُدھر چراغ جلے
کنیز منظور
غزلیات
مشاہدات: 157
پسند: 0
تمام رات جلی میں اُدھر چراغ جلے
اندھیری راتوں میں دل کے تمام داغ جلے
۔۔۔
اک آشیانہ بنے، آرزو تھی پھولوں کی
یہ اور بات کی اس گھر میں غم کی آگ جلے
۔۔۔
یہ لوگ ڈستے ہیں کہتے ہیں کہ جینا ہوگا
ایسے لوگوں سے مجھے لگنے لگے ناگ بھلے
۔۔۔
اب مری آرزو بے کار بھلا دے مجھ کو
راکھ ہونا ہے مجھے غموں کی آگ تلے
۔۔۔
آنکھ بھر آئی کنیزؔ آج مسکرانے پر
ان کی یادوں کے مرے دل میں جو چراغ جلے
واپس جائیں