نرالی بستی نرالے لوگ یہاں رہتے ہیں
بھلے ہیں جہاں دل میں درد کے پھول مہکے ہیں
۔۔۔
دلِ ویراں میں کسی کی خوشی کے لئے ہی تو
آنسوؤں کے چراغ جلائے رہتے ہیں
۔۔۔
دنیا کے جور و ستم کا گلہ بھی نہیں کیا کبھی
شکوہ تو یہ ہے لوگ پھر بھی خفا رہتے ہیں
۔۔۔
روز مرتے ہیں مر کے جیتے ہیں
کون ہو آخر؟ اپنے ہی کہتے ہیں
۔۔۔
ایک کھلونا تھا اپنوں کے ہاتھوں ٹوٹ گیا
پھر انہی کے لئے ہم کس آس پر دعا گو رہتے ہیں
۔۔۔
غمِ زیست سے اب پریشاں نہیں ہوں میں کنیزؔ
حیراں ہوں کہ پتھر سے لوگ کیوں سوگوار بیٹھے ہیں