چلو دوستو! اپنے آج کو مل کر سنواریں
پیار کے پھولوں سے اپنے آج کو سنواریں
۔۔۔
کر کے آساں اسے مسکرانا سکھائیں
دیکھنے آئیں تاکہ اپنے آج کو بہاریں
۔۔۔
آج سے آج اتنا پیار کریں ہم کہ
آنے والے اس کی روشنی میں کل کو نکھاریں
۔۔۔
ہو جائے روشن اپنا ملک اور مستقبل
علم کی روشنی کو اس قدر ہم پھیلائیں
۔۔۔
محبت ہی سے کر سکتے ہیں برداشت سب کو
چلو کر کے محبت اس جہاں کو جنت بنائیں
۔۔۔
چن کے دکھ کے کانٹے اک دوسرے کے جیون سے
سکھ اور پیار کی خوشبو فضا میں رچائیں
۔۔۔
اپنا بسکٹ، اپنی ٹافی بانٹ کر کھا لیں ہم
گر ساتھی ہمارے کبھی کھانے کو نہ لائیں
۔۔۔
نورِ علم سے ہر زندگی روشن ہو کنیزؔ
آؤ مل کر دعا میں ہم ہاتھ اٹھائیں