علم کا اک حسین باب بند ہوا
نام جس کا ستاروں میں قلمبند ہوا
۔۔۔
محبت و ہمدردی کا وہ پیکر وہ آفتابِ عالم
ہمیشہ کو اب وہ مسکراتا پھول چہرہ اوجھل ہوا
۔۔۔
میرے قلم کو متحرک رکھنے کی وہ اک خوبصورت وجہ
میرے لفظوں کو سراہنے والا وہ جھرنا بند ہوا
۔۔۔
میں اسے ماں کہوں یا سراپا محبت کہوں
شفقت و چاہت کی مثال وہ سراپا جو اب نہیں رہا
۔۔۔
زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتا علم کی روشنی پھیلاتا
وہ چمکتا ستارہ اب کہیں اوجھل ہوا
۔۔۔
فروغِ علم اور طالب علموں سے جنوں کی حد تک محبت
وہ محبت وہ جنوں کا روشن دیا، اب بند ہوا
۔۔۔
علم کے بے شمار دیے جگمگا رہے ہیں ان کی بدولت
ہزاروں دیے جلا کے وہ روشن چراغ بند ہوا
۔۔۔
ترقی کے آسماں پہ چمکے گا یہ وطن اک دن
ہر معلم جو ان کے نقشِ قدم کا پابند ہوا