اور کتنا میرے مالک جینا پڑے گا
زہرِ زندگی کب تلک پینا پڑے گا
۔۔۔
کوئی رکھے گا نہیں زخموں پہ مرہم آ کر
زخمِ جگر خود ہی سینا پڑے گا
۔۔۔
یہ درد و غم بھی اپنے سے لگنے لگے ہیں
انہی کے ساتھ کچھ دِن اور جینا پڑے گا
۔۔۔
سنتے آئے کہ سانچ کو آنچ نہیں پھر بھی
مانندِ سقراط پیالہ زہر کا پینا پڑے گا
۔۔۔
مجھ سے جذبوں کی یہاں پامالی نہیں دیکھی جاتی
اب اَور لبوں کو کب تلک مجھے سینا پڑے گا