داغ دل کے یہ دھل جائیں گے کبھی تو
نفرتوں کے بت پگھل جائیں گے کبھی تو
۔۔۔
چلے گی آندھی ایک ایسی پیار کی کوئی
مدتوں سے بند در یہ کھل جائیں گے کبھی تو
۔۔۔
میں نہیں مانگتی تجھ سے زر و جواہر لیکن
موتیوں کی طرح یہ پتھر تُل جائیں گے کبھی تو
۔۔۔
یہ امید ہی تو زندہ رکھے ہوئے ہے ہم کو کنیزؔ
پہاڑ یاس کے غموں کی دھوپ میں پگھل جائیں گے کبھی تو