سچ اس قدر تلخ ہوتا ہے کس لئے
کانٹے اپنی ہی راہ میں انسان بوتا ہے کس لئے
۔۔۔
بھروسہ تم پہ خود سے زیادہ تھا ہمیں
تیرے ہاتھوں یہ ریت کی دیوار ہوتا ہے کس لئے
۔۔۔
تو سنگدل ایسا بھی لگتا تو نہیں ہے
ہر بار میرا اعتمادِ خون ہوتا ہے کس لئے
۔۔۔
نفرت و خود غرضی کی دیواریں کر کے خود کھڑی
اپنے ہی جال میں پھنس کے آدمی روتا ہے کس لئے
۔۔۔
لہو کا رنگ ایک ہے سب آدم کی اولاد ہیں
اونچ نیچ کا یہ سلسلہ پھر ہوتا ہے کس لئے
۔۔۔
بو کے فصل کانٹوں کی کنیزؔ یہاں اوروں کے لئے
اپنے لئے فصلِ گل کا انتظار ہوتا ہے کس لئے