اپنی کم مائیگی کو چھپایا ہے اس طرح
اندھیرے میں گم ہو جاتا ہو سایہ جس طرح
۔۔۔
کٹھن سفرِ حیات کو جو کرنا چاہو آساں
کانٹوں پہ چلو ایسے کہ تتلی پھولوں پہ جس طرح
۔۔۔
بھوکے کو نظر آتی ہے روٹی جو خواب میں
لگا خزانہ قارون کا پایا ہے جس طرح
۔۔۔
چھینے نہ کوئی ردا کسی بہن بیٹی کے سر سے کبھی
سمجھو اسے پیار و رحمت کا سایہ ہے جس طرح
۔۔۔
آدابِ عشق کی ابجد سے بھی نہیں ہو واقف
لگا کوئی پہلی بار مدرسے آیا ہے جس طرح
۔۔۔
پتھر مثال ہو گئے ہم غم سہتے سہتے
رسمِ وفا کو ہم نے نبھایا ہے اس طرح
۔۔۔
اب تیرا آنا نہ آنا سب برابر ہے
کفن خواہشوں کو ہم نے پہنایا ہے اس طرح
۔۔
قبر میں حاجت بھلا کسی کی کیا ہوگی
تمنائیں کوئی اپنے ساتھ دفن کر آیا ہو جس طرح
۔۔۔
غم کی کڑی دھوپ میں آئے جو وہ نظر ہم کو
لمحہ بھر لگا دبیز بادل کا سایہ ہے جس طرح
۔۔۔
گھڑی بھر کو وہ ہو جدا تو لگتا ہے میرے ہی گرد
میری زلفوں نے جال بنایا ہے جس طرح
۔۔۔
زندگی کے کٹھن سفر میں یہ کیسا مرحلہ آیا ہے
کچھ ہم ہی جانتے ہیں کہ پیار یہ نبھایا ہے کس طرح
۔۔۔
غم جاں، غم دوراں، غم جاناں سے پر ہے یہ دامن لیکن
تم کیا جانو یہ خزانہ درد و غم کا ہم نے پایا ہے کس طرح