اعتماد کی کرچیوں کے سہارے بسر کر لیں گے زندگی
کرو گے آخر کب تلک میری ذات کی نفی
۔۔۔
کیوں چاہتے ہو کہ رہوں بند اپنی ذات میں
کیا حق نہیں ہے مجھے جینے کا اپنی زندگی
۔۔۔
مجھے بھی بخشے ہیں خُدا نے ہوش و حواس
کھودوں کہاں میں انہیں اور کر لوں پتھر سی زندگی
۔۔۔
میں نے دوست اور دشمن نوازا ہے برابر سب کو
کر دی ہے کیوں سبھی نے میری کانٹوں سی زندگی
۔۔۔
میرے بھرم کا سہارا تو نہ چھینو مجھ سے
مجھے یقیں ہے اپنے رب پہ قبول ہو گی میری یہ بندگی