کسی مندر کسی مسجد و گرجا گھر کو نہیں دیکھتا بارود
تباہ کرتے ہوئے کسی کو پسیجتا نہیں بارود
۔۔۔
کتنی بے گناہ جانیں چڑھی ہیں بھینٹ اس کی
بوڑھے، بچے بے بس سہمے ہوئے معصوم دیکھتا نہیں بارود
۔۔۔
ذمہ دار کوئی بھی ہو اس خوں آشام کھیل کا
خونِ انساں سے بجھاتے ہوئے پیاس کچھ سوچتا نہیں بارود
۔۔۔
یہ سوچنا انسان کو ہے یہ دیکھنا ہم ہی کو ہے
کہ خود اپنے آپ کو کبھی ڈھالتا نہیں بارود