انتظارکر سکو تو کر لینا
پر کوئی تہمت تم نہ اپنے سر لینا
۔۔۔
جوئے شیر لانے سے مشکل لگا ہے
زندگی کو صبح سے شام کر لینا
۔۔۔
نبھانا کتنا آساں ہے کسی سے پوچھ کر دیکھو
ہاں بہت آساں ہے مگر پیار کر لینا
۔۔۔
تنکا دوسرے کی آنکھ کا لگتا ہے شہتیر
مگر شہتیر اپنا بھی کبھی جانِ جاں سر کر لینا