واقعی لگتا ہے یہ معاشرہ صرف مردوں کا ہے
بنا ان کے عورت جینا جو چاہے تو جیے کیسے
۔۔۔
بنا مرد کے عورت کو احساسِ تحفظ ہو یہ ممکن نہیں یہاں
ہر جانب سے نگاہیں اسے چھیدتی ہیں کیسے
۔۔۔
انجانے خوف سے خود میں سمٹی پھرتی ہے
گویا وجود اس کا کوئی عجوبہ ہے جیسے
۔۔۔
یا کہ شاید وہ برہنہ ہو بادلِ ںخواستہ
حریص نگاہیں کچھ چھیدتی ہیں ایسے
۔۔۔
ہمراہ ہو جب ساتھی اس کے جیون کا یا باپ، بھائی
عجب اعتماد آتا ہے اسی خوف اسی نزاکت میں
۔۔۔
گھبرائی ہوئی پاگل سی ہرنی جو لگتی ہے اکیلی
اعتماد و وقار ملتا ہے ساتھ ہمراہی کیسے
۔۔۔
عجیب شان سے نجانے وہ چلتی ہے کیوں
خوشبو ان کی اسے سائبان لگتی ہے جیسے
۔۔۔
اشرف المخلوق ہو کر بھی اکیلی یہاں ادھوری ہے
سنگ ان کے چلیں یوں معرکے سر کیے ہیں جیسے