حالانکہ ہر اک بات پہ تپنے ہی لگے ہو
کنیز منظور
غزلیات
مشاہدات: 182
پسند: 0
حالانکہ ہر اک بات پہ تپنے ہی لگے ہو
پھر بھی ہے یہی بات تم اپنے ہی لگے ہو
۔۔۔
سایہ ہو یا کہ دھوپ یا کھلتے ہوئے گلاب
ہر روپ میں مجھے تو بس اپنے ہی لگے ہو
۔۔۔
صحرا چمن کے پھول حقیقت ہیں سب یہاں
اک تم کہ ہر طرح مجھے سپنے ہی لگے ہو
۔۔۔
یہ بھی عجب سلوک تمہارا ہے کیا کریں
میری نگاہِ ناز سے چھپنے ہی لگے ہو
واپس جائیں