کس طور دن چڑھا تھا اٹھارہ جولائی کو
کیسا بندھا تھا یہ بندھن اٹھارہ جولائی کو
۔۔۔
ارمان آرزوئیں یا ممتا کے خواب تھے
چمکا تھا جیسے کوئی ستارہ جولائی کو
۔۔۔
بے بس تھی میں بھی اور رواجوں کے تم اسیر
دل بھی بجھا ہوا تھا ہمارا جولائی کو
۔۔۔
آنسو تمہاری آنکھ سے بابا رواں تھے جب
ٹوٹا تھا ہر ایک ضبط کا دھارا جولائی کو
۔۔۔
کاندھوں کا بوجھ کہیے یا آنکھوں کا نور آپ
کچھ تو جُدا ہوا تھا تمہارا جولائی کو
۔۔۔
بندھن ہر ایک ضبط کے دریا کا اے کنیزؔ
ٹوٹا تھا بس ہر ایک کنارا جولائی کو