نئی صدی کو کیا منہ دکھائیں گے
کارنامے کتنے اسے گن کے دکھائیں گے
۔۔۔
بے شمار بستیاں، ٹوٹے مکان اور چند عالی شان بنگلے
اکیسویں صدی میں کیا لے کے جائیں گے
۔۔۔
آنے والے وقت کے ماتھے پر صرف کیا
مسائل در مسائل کی ہم فہرست سجائیں گے
۔۔۔
ساری نفرتیں، کدورت و طمع مٹانے کو
چراغِ الہٰ دین کہاں سے ڈھونڈ لائیں گے
۔۔۔
نہ کوئی عنصر ابھی ایسا ایجاد ہوا ہے
بدولت جس کی ہم اپنی سوچیں بدلوائیں گے
۔۔۔
مسائل ختم ہوں گے اگر سچی لگن سے
ابنِ زیاد بن کے جب ہم اپنی کشتیاں جلائیں گے
۔۔۔
محرومیاں، حسرتیں اور ڈھیروں خدشات کنیزؔ
یہ اثاثے کیا ہم نسلِ نو کے لئے چھوڑ جائیں گے