ماں تھی تو نہ ڈوبنے دیا اس کی دعاؤں نے
اب وہ نہیں تو ہوں ان دعاؤں کی پناہوں میں
۔۔۔
افسوس کبھی میں کہہ نہ سکی یہ اس کو
کیا بے فکری تھی ماں تیرے پیار کی رداؤں میں
۔۔۔
ماں کی ممتا کا، پیار کا کیا صلہ دے گا کوئی
مانندِ چڑیا لڑے سانپ سے نہ چھوڑے بچوں کو بلاؤں میں
۔۔۔
بن کے دیوار یا چھاؤں ہوتی ہے کھڑی ماں
بچانے جگر گوشوں کو زمانے کی گرم و سرد ہواؤں میں
۔۔۔
بس سراپا پیار ہی پیار ہوتی ہے ماں
چھپا ہوتا ہے پیار اس کی خفگی کی اداؤں میں
۔۔۔
بچے لاکھ خود کو بڑا جان کر چھپانا چاہیں کنیزؔ
درد کر لیتی ہے محسوس وہ خاموش صداؤں میں